Showing posts with label دلچسپ عجیب و غریب. Show all posts
Showing posts with label دلچسپ عجیب و غریب. Show all posts

Friday, 17 February 2017

انسانی جسم کے متعلق 7 غلط فہمیاں


انسانی جسم سے متعلق کئی طرح کی غلط فہمیاں عام ہیں۔ ان میں سے اکثر پرانے وقتوں کے نام نہاد دانشوروں کی باتوں سے اخذ کردہ ہیں جن میں سائنسدان، مفکرین، ماہر نفسیات اور نہ جانے کون کون شامل رہے۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ ہم آج بھی ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں باوجودیکہ یہ بعد میں غلط بھی ثابت کی جاچکی ہیں۔ تو آئیے اپنے جسم سے متعلق ان غلط فہمیوں کے بارے میں جانتے ہیں

دماغ کا استعمال:

اکثر لوگ یہ کہتے سنے گئے کہ عام انسان اپنا صرف 10 فیصد دماغ ہی استعمال کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان کا دماغ ہمہ وقت مکمل رفتار سے چلتا رہتا ہے چاہے وہ جاگ رہا ہو یا پھر سو رہا ہو۔

آنکھوں کی بینائی:

عام تاثر یہ ہے کہ اندھیرے میں کچھ پڑھنے یا پھر کمپیوٹر اسکرین پر زیادہ دیر نظر جمائے رکھنے سے آپ کی بینائی کمزور ہوجاتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ عمل صرف آپ کی آنکھوں کو جلد تھکا دیتا ہے اور کچھ وقت بعد تھکن ازخود اتر جاتی ہے۔

دو منہ بال:

اپنی مصنوعات کو بیچنے کے لیے جھوٹے سچے دعوی کرنے والے ادارے کہتے ہیں کہ شیمپو کی مدد سے آپ دو منہ بالوں سے چھکٹارا پاسکتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں اس طرح کے بالوں کو قینچی سے کاٹ کر ہی علیحدہ کیا جاسکتا ہے اور اس کا کوئی دوسرا طریقہ موجود نہیں۔

سردی اور بخار:

موسم سرما میں اکثر لوگ گرم کپڑے اس لیے پہنتے ہیں کہ کہیں ان کو بخار نہ ہوجائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بخار ہونے کے موسم کا سرد ہونا ضروری ہے نہ گرم کپڑے اس بیماری سے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ بخار ایک خاص طرح کے وائرس سے ہوتا ہے اور اس کا درجہ حرارت کم یا زیادہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔

دل کی دھڑکن:

ایک خیال یہ بھی عام ہے جب ہم چھینکتے ہیں تو ہمارے دل کی دھڑکن رک جاتی ہے۔ اب آپ خود سوچیئے کہ اگر ایسا حقیقت میں ہے تو پھر دو تین چھینکیں ایک ساتھ آنے پر تو انسان کو مر ہی جانا چاہیے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا کیوں کہ چھینکتے ہوئے دل دھڑکنے کی رفتار کم یا زیادہ ہوسکتی ہے لیکن وہ رکتا بالکل بھی نہیں۔

گاجر اور بینائی:

کہا جاتا ہے کہ گاجر کھانے سے آنکھوں کی روشنی تیز ہوتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گاجر آپ کے پٹھوں کو خراب ہونے سے محفوظ رکھتی ہے۔ اب وہ پٹھے چاہے آنکھوں کے ہوں یا جسم کے کسی اور حصے کے، فائدہ تو بہرحال ہوگا ہی لیکن روشنی تیز ہونے والی بات محض غلط فہمی ہے۔

سفید چمکدار دانت:

ٹوتھ پیسٹ اور دوسرے 'منجن' بیچنے والے ادارے اپنے اشتہاروں میں سفید اور چمکدار دانتوں کو صحت کی علامت قرار دیتے ہیں جبکہ حقیقت میں دانتوں کا قدرتی رنگ سفید نہیں بلکہ بہت معمولی سا پیلا ہوتا ہے۔ بالکل پیلے نہیں بلکہ بہت ہلکی پہلاہٹ والے دانت ہی آپ اور آپ کے دانتوں کی بہتر صحت کی علامت ہے۔

فیس بک اب دہشت گردوں کی شناخت کرے گی


زکربرگ کا کہنا تھا کہ فیس بُک کےلیے الگورتھمز کو بہتر بنانے پر کام شروع کیا جاچکا ہے جو آئندہ پانچ سال میں مکمل ہوجائے گا۔ (فوٹو: فائل)

سلیکان ویلی: مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک کے بانی  مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے دہشت گردی اور شدت پسندانہ رجحانات رکھنے والے افراد کی نشاندہی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرے گا۔

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں ’’مصنوعی ذہانت‘‘ (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) کا استعمال کوئی نئی بات نہیں اور سرچ انجنز سے لے کر سوشل میڈیا ویب سائٹس تک کسی نہ کسی حد تک اس کا استعمال کررہے ہیں جس کے تحت کسی بھی صارف کی جانب سے بار بار استعمال کئے گئے الفاظ (کی ورڈز) کو مدنظر رکھتے ہوئے خودکار طور پر سرچ اور مطابقت رکھنے والی پوسٹیں دکھائی جاتی ہیں۔

اسی طرح اب تک انٹرنیٹ پر تصاویر/ گرافکس پہچاننے والے الگورتھمز اور ان پر مشتمل سافٹ ویئر بھی اتنے جدید ہوچکے ہیں کہ وہ کسی تصویر کے ساتھ دیئے گئے مخصوص الفاظ یعنی کی ورڈز کے علاوہ تصویر میں دکھائی جانے والی جزئیات تک کی مدد سے اس بارے میں بہت کچھ بتاسکتے ہیں۔

مارک زکربرگ کا منصوبہ ان ہی الگورتھمز کو جدید تر کرتے ہوئے اس قابل بنانا ہے کہ وہ ہر ایک منٹ میں کروڑوں کے حساب سے کی جانے والی فیس بُک پوسٹوں کا متن کھنگال کر ان میں ایسے الفاظ کی نشاندہی کرسکیں جو شدت پسندی اور دہشت گردی کے علمبردار ہوں۔ مزید یہ کہ ان الگورتھمز کو اس قابل بھی بنانا ضروری ہوگا کہ وہ تصویر کی شکل میں تحریری پوسٹوں میں دی گئی عبارت کو پہچان سکیں یعنی ان میں ’’او سی آر‘‘ کی صلاحیت بھی آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو۔ علاوہ ازیں انہیں صرف تصاویر کے ظاہری خد و خال دیکھ کر یہ بھی جاننے کے قابل ہونا چاہئے کہ کہیں ان میں شدت پسندی یا دہشت گردی سے تعلق رکھنے والا کوئی منظر تو موجود نہیں۔

اگرچہ یہ صلاحیتیں پہلے ہی مصنوعی ذہانت سے لیس الگورتھمز اور متعلقہ سافٹ ویئر میں موجود ہیں لیکن سب سے بڑا چیلنج انہیں بہت زیادہ ڈیٹا (بگ ڈیٹا) کو بہت ہی کم وقت میں کھنگالنے اور درست نتائج دینے  کے قابل بنانا ہے۔ زکربرگ کے بقول، سوشل میڈیا پر روزانہ اربوں تعداد میں پوسٹیں، تصویریں اور تبصرے شیئر کرائے جاتے ہیں جنہیں فی الفور کھنگالنے کےلیے فیس بُک کے موجودہ سافٹ ویئر اور الگورتھمز یکسر ناکافی ہیں۔ انہیں اتنے بڑے پیمانے کے ڈیٹا کو کھنگالنے کم سے کم وقت میں درست نتائج دینے کے قابل بنانے میں 5 سال کی محنت درکار ہوگی۔

زکربرگ کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے فیس بُک میں ان سافٹ ویئر کے الگورتھمز بہتر بنانے کے منصوبے پر کام شروع کیا جاچکا ہے اور انہیں یقین ہے کہ مذکورہ تمام اہداف کو حاصل کرتے ہوئے یہ منصوبہ آئندہ پانچ سال کے اندر اندر مکمل کرلیا جائے گا۔

مستقبل کے اس الگورتھم/ سافٹ ویئر کی مدد سے آن لائن موجود معصوم اور مجرمانہ رجحانات رکھنے والے افراد میں تیزی سے فرق کیا جاسکے گا جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی بہت مدد ملے گی۔

واضح رہے کہ بھیجی اور وصول کی گئی ای میلز کو کھنگال کر مشکوک متن شناخت کرنے والے الگورتھمز پہلے ہی امریکی ایف بی آئی اور سی آئی اے وغیرہ جیسے اداروں کے استعمال میں ہیں لیکن سوشل میڈیا پر سرگرمیاں بڑھنے کے ساتھ ساتھ انہیں ایک نئی جہت میں ترقی دینے کی ضرورت ہے۔

Thursday, 16 February 2017

آٹھواں براعظم دریافت


آٹھواں براعظم دریافت



بچوں کو بتایا جاتا ہے بلکہ آپ کو بھی یہی علم ہے کہ دنیا میں سات براعظم ہیں: افریقہ، ایشیا، انٹارکٹیکا، آسٹریلیا، یورپ، شمالی امریکا اور جنوبی امریکا۔

مگر اب سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ درحقیقت زمین کا ایک اور براعظم بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے کے باوجود اوجھل تھا اور اسے زی لینڈیا کا نام دیا گیا ہے۔

اور یہ بحرالکاہل میں نیوزی لینڈ اور نیو کیلیڈونیا سے منسلک ہے۔

گیارہ محققین کی ٹیم نے دریافت کیا کہ نیوزی لینڈ اور نیو کیلیڈونیا درحقیقت 49 لاکھ اسکوائر کلومیٹر پر پھیلے ایک براعظمی قشر پر مشتمل ہیں جو کہ آسٹریلیا سے الگ ہے۔

جغرافیائی لحاظ سے دکھا جائے تو اس وقت دنیا میں چھ براعظم ہیں: افریقہ، انٹار کٹیکا، آسٹریلیا، یورایشیا، شمالی امریکا اور جنوبی امریکا، یور ایشیاءایسا جغرافیائی خطہ ہے جو کہ یورپ اور ایشیاءپر مشتمل ہے۔

49 لاکھ اسکوائر کلو میٹر کے ساتھ زی لینڈیا زمین کا سب سے چھوٹا براعظم ہوگا۔

تحقیق کے مطابق یہ زمین کا سب سے کم عمر، پتلا اور ڈوبا ہوا براعظم بھی ہے جس کا 94 فیصد حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ زی لینڈیا میں وہ تمام چاروں عناصر موجود ہیں جو کسی براعظم کے لیے ضروری تصور کیے جاتے ہیں۔

ان عناصر میں سمندری قشر سے خطے کی بلندی، تین اقسام کی چٹانیں، پتلا اور کم گنجان قشر اور اتنا بڑے خطہ جو اسے چھوٹے براعظم یا برصغیر کی کیٹیگری سے الگ کرسکے۔

محققین کا کہنا تھا کہ زی لینڈیا کی اہمیت براعظموں کی فہرست میں ایک اضافی نام کی بجائے سائنسی لحاظ سے زیادہ ہوگی۔

محققین کے مطابق رقبے کے لحاظ سے یہ بھارت کے حجم کا ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ دس کروڑ سال پہلے انٹار کٹیکا اور 8 کروڑ سال پہلے آسٹریلیا سے الگ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اچانک درافت نہیں بلکہ یہ بتدریج سامنے آنے والی حقیقت ہے۔

اس حوالے سے تحقیقی مقالہ جریدے جیالوجیکل سوسائٹی آف امریکا میں شائع ہوا۔

وٹس ایپ کا اپنے صارفین کے لئے ایک نیا فیچر متعارف کروانے ارادہ






 واٹس ایپ نے اہم فیچر متعارف کروا کر صارفین کی پریشانی ختم کردی،اب آپ اپنے سٹیٹس کی جگہ پر بھی تصویر اپ لوڈ کر سکیں گے۔تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ کے نئے بیٹا ورژن میں سٹیٹ کی جگہ کچھ لکھنے کے علاوہ تصویر کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی آپشن بھی فراہم کردی گئی ہے۔

اس فیچر کے تحت کوئی تصویر صرف 24گھنٹوں کیلئے ہی سٹیٹس کی جگہ رہ سکے گی اور اس کے بعد کوئی نئی تصویر اپ لوڈ کرنا ہو گئی۔"



Tuesday, 14 February 2017

دو منٹ میں سر سے 38 کیلیں ٹھوکنے کا انوکھا ریکارڈ


امریکی پہلوان اور کھلاڑی جان فیرارو نے اٹلی کے ایک گیم شو میں دو منٹ میں اپنے سر سے 38 کیلیں ٹھوک کر ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا۔

اٹلی کے ایک گیم شو میں امریکی پہلوان اور کھلاڑی جان فیرارو نے اپنے سر سے دو منٹ میں 38 کیلیں ٹھوک کر لوگوں کے حیران کردیا۔ فیرارو کے اس کارنامے کی بدلولت ان کا نام گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کرلیا گیا ہے۔



جان فیرارو نے ٹریننگ، تیاری اور توجہ کو اس کامیابی کی وجہ قرار دیا ہے۔



اس سے قبل ایک منٹ میں اپنے سر سے سب سے زیادہ کیلیں ٹھونکنے والا کھلاڑی کا اعزاز بھی فیرارو کو ہی حاصل ہے۔

Sunday, 12 February 2017

خطرہ....!!




گلوبل وارمنگ دہائیوں پہلے خطرے کی گھنٹی بجا چکی ہے اور اب انٹارکٹکا کی برف میں پڑنے والی دراڑیں ناقابل یقین حد تک بڑی ہو رہی ہیں
سائنسدانوں کے مطابق 5500 مربع کلومیٹر کا ایک ٹکڑا چند ہفتوں کے اندر اندر کٹ کر سمندر میں گرنے والا ہے جس سے سمندری سطح میں اضافہ ہو جائے گا
امریکی ریاست ٹیکساس جتنے ایک اور ٹکڑے کی دراڑ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ممکن ہے کہ یہ بھی اگلے چند سالوں میں سمندر برد ہو جائے گا اور یہ زمین باسیوں کے لیے بہت بڑا حادثہ ہو گا

یاد رہے کہ سمندری سطح میں اضافے کے باعث ماہرین 2050 تک مالدیپ کے مکمل طور پر سمندر برد ہونے کی خبر سنا چکے ہیں اور  امریکہ کی طرف سے مالدیپ کے شہریوں کی رہائش واسطے بھارتی حکومت کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے
اگر صورتحال پیشینگوئی کے مطابق ہی رہی تو بنگلہ دیش کے پچیس فیصد علاقے سمیت دنیا کے کئی ساحلی شہر سمندر نگل جائے گا


Photo Credit Mr John "NASA"
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...