Urdu Stories, Jokes ,PDF Books, Interesting News, Poetry and all about Pakistani Culture
Friday, 10 February 2017
آج رونا بہت ضروری ہے
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺟﺐ ﺗﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﻤﺎ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﺩﮬﻨﮏ ﺍﺗﺮﯼ ﺗﮭﯽ
ﺟﺐ ﯾﮧ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺴﺎ ﺣﺴﯿﻦ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﮎ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ
ﻋﮑﺲ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ
ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺗﯿﺮﯼ
ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ
ﺗﻮ ﮨﯽ ﻣﺤﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﺮﯼ
ﺟﺰﻭ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﺎ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺠﮭﮯ
ﺑﺠﺰ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﺗﮭﯽ
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﺗﮭﮯ ﺭﻧﮓ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﮕﺘﮯ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﺷﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﺗﯿﺮﮮ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﯽ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﯽ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺟﺰ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ، ﭘﺎﺱ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﯿﺪ، ﺁﺱ، ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺩﻝ ﯾﮧ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﮯ ﺷﺪﺕِ ﻏﻢ ﺳﮯ
ﺁﺝ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﺩﻝ ﯾﮧ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﮯ ﺷﺪﺕِ ﻏﻢ ﺳﮯ
ﺁﺝ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
انسان کی اوقات
ایک دن موبائل گیلری سے کچھ تصاویر ڈیلیٹ کر رہی تھی اس دوران ایک کال لی اور دوبارہ گیلری اوپن کی بے دھیانی میں ایک ٹچ میں تمام تصاویر ویڈیوز ڈیلیٹ ہو گئیں .....
پریشانی میں فیس بک پہ اسٹیٹس دے کر پریشانی کا ذکر کیا کمنٹس میں کچھ نے اظہار افسوس کیا اور کچھ نے دوبارہ ڈیٹا ری کور کرنے کاطریقہ بتایا..
ایک دو نے انباکس مکمل گائیڈینس دی ایک دو ایبز ڈاون لوڈ کی جنکی مدد سے تمام تصاویر ری کور ہو گئ ..
میں جیسے جیسے تصاویر دیکھ ریی تھی آنکھوں کی پتلیاں پھیل رہی تھی موجودہ تصاویر نہیں بلکہ اس کے علاوہ بہت پرانی تصاویر بھی لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ جگمگا رہی تھی ..
میرے ماتھے پہ پسینہ آ گیا ' انسان کیا ہے ؟؟؟
اس کی اوقات کیا ہے......؟؟؟؟ ایک پانی کا قطرہ اور اس کے زہن کی وسعت یہ کہ وہ مٹا دیا گیا مواد بھی دوبارہ آنکھوں کے سامنے لا کر رکھ دینے کے گر سکھاتا ہے ......
تو وہ ' وہ جس کے قبضہ قدرت میں اس انسان کا زہن ہے جو اگر ایک " کن " کہے تو اس انسان کے زہن کی تمام صلاحیتوں کو سلب کر لے وہ کتنا طاقتور ہے ........
میری زندگی کے گزرتے ہر پل ہر سیکنڈز کو وہ " ری کور" کر کے یوم حشر ساری دنیا کے سامنے سینما سے بھی بڑی سکرین پہ لا کر چلوا دینے کی قدرت کیوں نا رکھتا ہو گا.....وہ دن جب انسان اپنا کیا دیکھ کر شرم سے اپنے ہی پسینے میں ڈوب جائے گا...
کفار مذاق اڑاتے تھے نا کہ کیسی آخرت کہاں کی آخرت مرنے کے بعد یہ مردہ ہڈیاں دوبارہ کھڑی ہونگی حساب کتاب ہو گا .....ہاہا
آج کا ملحد بھی کہتا ہے واٹ ربش دیکھو اس مولوی کو جنت کی خواہش اور آخرت کے ڈر سے اس دنیا کے مزے بھی گنوا رہا ہے....اس احمق کو لگتا ہے کہ مرنے کے بعد اس کی گلی سڑی ہڈیوں کو پھر سے زندہ کیا جائے اور اس کو اس کا کیا دکھایا جائے گا اور اس کے اچھے اعمال پہ انعام میں جنت اور حور اور سزا پہ جہنم ملے گی ......دیکھو اس کو ہاہاہا
قرآن پاک کی مختلف آیات تراجم اور مفہوم کے ساتھ دماغ کی اسکرین پہ یکے بعد دیگرے تسلسل سے آنے لگی ..
" ایسا کون ہے جو ہڈیوں کو زندہ کرے گا جب وہ بالکل گل گئ ہوں...القرآن
فرما دو کہ انہیں دوبارہ وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار پیدا کیا........القرآن
سوچو تو سہی یہ انسان جو خود سے چاہ بھی نہیں سکتا ' جو اس اللہ کی چاہ کا محتاج ہے ' اس کا زہن ایسی طاقت رکھتا ہے تو جس کا وہ محتاج ہے اس کی طاقت کا کیا اندازا........
" افلا تتدبرون ؟؟؟؟؟
ابھی بھی وقت ہے تدبر تو کرو ' سوچو تو سہی اس کی طرف لوٹ آو جس کا کوئی شریک نہیں ' جو قادر ہے جس کے تابع تمہارے جسم کا ایک ایک عضو ہے ' اس لامحدود طاقت والے کی طرف لوٹ آو '
وہ کافر تو چودہ سو برس پہلے کہتا تھا کہ جو مٹ چکا وہ دوباہ کیسے زندہ ہو سکتا تیری آنکھ تو آج دیکھہ سکتی ہے کہ جو مٹ چکا وہ کیسے " ری کور " ہوتا ہے .....
سنو ابھی بھی وقت ہے
سنو لوٹ آو !!!!!
تحریر: حجاب گُل
بات تھی محبت کی
بات تھی محبت کی
عمر بھر کی چاہت کی
بھیڑ میں زمانے کی
ساتھ ساتھ چلنا تھا
امتحان بھی آنے تھے
زندگی کے سب ہی پل
ساتھ ہی بتانے تھے
جانے اس نے کیا سوچا
بس اک پل میں ہی
بات ختم کر ڈالی
زندگی جو پوری تھی
وہ ادھوری کر ڈالی
پر کون اسکو سمجھائے
کہ محبتوں کے موسم بھی
روز تو نہیں آتے
یوں زندگی میں اپنوں کو
چھوڑ تو نہیں جاتے
خواہش
اپنے جسم کے ٹکڑے کر کے
پہروں سوچ بچار کے بعد
میں نے اپنا ملبہ بیچا
ہاتھ تو ہاتھوں ہاتھ گئے
پاؤں بھی کوئی لے ہی گیا
آنکھیں میں نے رکھ لی ہیں
یہ میں اس کوبیچوں گا
جوتیری گلی میں رہتا ہو
اک بات کہی جائے
َاک بات کہی جائے
اک نظم لکھی جائے
اک خوشبو پھول بنے
اس بھیگی ٹہنی پر
اس رات کے جنگل میں
اک جگنو چاند بنے
جسے چوم لیا جائے
تجھے یاد کیا جائے
Subscribe to:
Posts (Atom)
