Urdu Stories, Jokes ,PDF Books, Interesting News, Poetry and all about Pakistani Culture
Saturday, 11 February 2017
بیٹی، اک ڈھال 🌹
اُس کی شادی کو دس سال ہو رہے تھے۔۔۔ قدرت نے اُسے بیٹیوں جیسی رحمت سے نوازا تھا۔۔
ہر مرتبہ اُسے خواہش ہوتی کہ بیٹا پیدا ہو۔۔ لیکن یکے بعد دیگرے پھول جیسی چھ بیٹیاں اس کے آنگن میں اُتر آئی تھیں۔۔۔
بیٹا نہ ہونے کے سبب خاندان اور گھر والوں کی تلخ باتیں بھی اُسے سہنی پڑ جاتیں۔۔۔
اس بار پھر اُس کی بیوی کے ہاں ولادت متوقع تھی۔۔۔ لیکن وہ دل میں ہی ڈر رہا تھا کہ اس بار پھر بیٹی پیدا نہ ہو جائے۔۔۔
"اب کے بار بھی اگر لڑکی پیدا ہوئی تو بیوی کو طلاق دے کر فارغ کر دینا ۔۔۔۔"
اُس کی آپا نے اسے دوٹوک انداز میں کہہ ڈالا۔۔۔
"بیٹی کی پیدائش میں بھلا میری بیوی کا کیا قصور ۔۔؟؟"
وہ اپنے ہی ذہن میں سوچتا۔۔۔ پھر سر جھٹک کر فیصلوں کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتا۔۔۔
لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا۔۔۔ شیطان کے کاری وار اُس کے دل و دماغ پر اثر کرتے گئے یہاں تک اُس نے پکا ارادہ کر لیا کہ اگر اب کے بار بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا۔!
ایک رات وہ سویا تو کیا دیکھتا ہے کہ قیامت برپا ہو چکی ہے، ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے.
میزانِ عمل میں اس کے گناہوں کا بوجھ اتنا ہے کہ زندگی بھر کی نیکیاں بھی کام نہیں آ سکیں اور ان گناہوں کی پاداش میں اس پر جہنم واجب ہو چکی ہے..
فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی طرف گھسیٹتے ہوئے جا رہے ہیں۔۔ اِس کی چیخ و پکار آہ و بکا کا کچھ بھی اثر نہیں ہو رہا۔۔۔ اچانک کیا دیکھتا ہے کہ جہنم کے دروازے پر اِس کی ایک بیٹی کھڑی ہے.. وہ باپ کو دیکھ کر آگے بڑھتی ہے اور فرشتوں کو روک دیتی ہے۔۔۔
فرشتے اِس کو لے کر دوسرے دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں۔۔۔ وہاں پہنچ کر دیکھتا ہے کہ اس کی دوسری بیٹی کھڑی ہے اور فرشتوں کو آگے نہیں جانے دے رہی۔۔
فرشتے وہاں سے اِسے لے کر تیسرے دروازے پر جاتے ہیں۔۔ وہاں اس کی تیسری بیٹی اپنے باپ کیلئے جہنم سے آڑ بن جاتی ہے۔۔
اس طرح چوتھے۔۔۔ پانچویں اور پھر چھٹے دروازے تک فرشتے اس کو لے کر جاتے ہیں مگر ہر دروازے پر اس کی بیٹیاں اس کا دفاع کرتی ہیں اور جہنم میں جانے سے روک دیتی ہیں۔
اب ساتواں دروازہ باقی تھا، فرشتے اِس کو زنجیروں میں جکڑے ساتویں دروازے کی طرف چل پڑتے ہیں۔۔
اب اس پر شدید گھبراہٹ طاری ہونے لگی کہ اس دروازے پر میرے لئے کون رکاوٹ بنے گا۔۔؟؟؟
اسی گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں اچانک ہی اُس کی آنکھ کُھل گئی، وہ پسینے میں شرابور تھا اور جسم پر کپکپی طاری تھی، اسے احساس ہونے لگا کہ شیطان کے بہکاوے میں آ کر انتہائی غلط فیصلہ کر بیٹھا تھا.
اسی حالت میں اُس نے اللہ کے حضور ہاتھ بلند کئے۔۔۔ آنسو اُس کے رخساروں پر بہہ رہے تھے اور لرزتے ہونٹوں سے دعا نکلی...
"اے اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے ساتویں بیٹی عطا فرما ۔۔۔۔۔۔"
آج کے بیدین اور فرسودہ افکار نے سوچ کو اس حد تک گِرا دیا کہ بیٹیوں کو رحمت کے بجائے دورِ جاہلیت کی طرح اور بے عزتی کا سبب خیال کیا جانے لگا ہے، مسلمان معاشرے میں ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﻀﺎ ﻭ ﻗﺪﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﭘﺮ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﺧﺎﻃﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎہئے کیونکہ بیٹیاں رحمتِ خداوندی کا حصہ اور جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں، ایمان کی کمزوری کے باعث جن لوگوں کا ﯾﮧ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯾﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺮﺍ ﺳﺮ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ۔۔۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﺎ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻤﻞ ﺩﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻣﯿﺎﮞ ﺑﯿﻮﯼ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﯿﮟ۔۔
اولاد کی نعمت سے نوازنے والا ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺣﺪﮦ ﻻﺷﺮﯾﮏ ﮨﮯ...
ارشاد باری تعالٰی ہے:
"ﻭہ جو چاہے پیدا کرتا ہے۔۔۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا (جس کو چاہتا ہے) بیٹے اور بیٹیاں ملا جُلا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے."
(سورۃ الشورٰی: 49-50)
رسول اکرم (ص) نے فرمایا:
"جس شخص کو بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے احسن طریقے سے ان کی پرورش کی تو اس کے لیے یہ بچیاں جہنم سے بچاؤ کے لئے ڈھال بن جائیں گی."
(بخاری، کتاب الزکاة، حدیث:1418)
یقینا بسنت منانا بہت ضروری ہے
کیوں نہ ہو آخر ثقافت کی بقا مطلوب ہے ، کہ جو دم توڑتی جا رہی ہے - کبھی رہا ہو گا موسمی تہوار لیکن ہم نے تو دیکھا کہ اس تہوار نے ہمیشہ جانیں لیں - معصوم بچے ذبح کیے ماؤں کی گود اجاڑی -
یہ ١٩٨٦ کا سن تھا ، میں کالج سے پڑھ کے اپنے والد محترم کی دکان مکتبہ قدوسیہ آیا ..وہاں ایک صاحب گورے چٹے سیاہ داڑھی والے بیٹھے تھے اور اپنا قصہ سنا رہے تھے - ان کے چہرے پر زخم کا نشان جو بھرنے کو تھا ، اور ہاتھ پر بھی گہرے کٹاو کا مندمل ہوتا زخم ...بتا رہے تھے کہ اگلے روز موٹر سائکل پر سوار جا رہے تھے کہ ظالم ڈور نے آ لیا ...جان بچی لیکن شدید زخم آئے .. بعد میں معلوم ہوا کہ یہ عبد الرشید قمر تھے جو پاکستان کے معروف خطاط ہیں ....-
پھر سولہ برس پہلے میں اس جنازے میں تھا ، میں ان دنوں کچھ عرصے کو سمن آباد میں اسلامیہ پارک کے جوار میں رہائش پذیر تھا .ہمارے ہمسائے انجینیر اشفاق صاحب تھے .. متدین نمازی با شرع .. بیٹے کے ساتھ موٹر سائکل پر جا رہے تھے .. بیٹا پیچھے بیٹھا تھا ، ڈور آئی اور باپ کو چھوڑتی ہوئی پیچھے بیٹھے بیٹھے کو تاک لیا اور گلے کو کاٹتی چلی گئی ... سامنے سے آتی تو ممکن تھا باپ فوری سواری کو روک لیتا ..لیکن قیامت اب کے سامنے سے نہیں پیچھے سے آئی ...فوری معلوم ہی نہ پڑا کہ کیا گزر گئی ... موٹر سائکل روکی تو شہ رگ کٹ چکی تھی .... باپ بیٹا کو اٹھا کے ہسپتال بھاگا ....لیکن بیٹا تو جا چکا تھا اور گئے لوگ بھی بھلا واپس آتے ہیں - آٹھ نو برس کا سرخ سپید بیٹا لاش کی صورت باپ کے ساتھ گھر آ گیا .. میانی صاحب قبرستان کی جناز گاہ میں باپ نے خود جنازہ پڑھایا ..کمال ضبط کہ جو دین سے گہری وابستگی کی خبر دے رہا تھا ..لیکن باپ تھا ، کیسا بھی ضبط ہو درد سے تو چھٹکارا نہیں .... میں آج تک اس جنازے کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا .. باپ کی آواز میں ایسا درد تھا ، ایسا سوز ، اتنی تڑپ کہ میں کئی روز تک بے چین رہا اور اپنی اہلیہ سے اس کا تذکرہ کرتا رہا -
پھر انہی دنوں کا ایک اور قصہ سناتا ہوں ...ہم بھول جاتے ہیں نا ، ہماری یادداشت بہت کمزور ہے ..یہ نعمت ہی تو ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں اور جو بھولتے نہیں وہ میری طرح رات رات بھر بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ہیں ، اپنی جان کو جلاتے رهتے ہیں ...وہ اپنے باپ کا اکیلا بیٹا تھا اور ایک ہی بیٹی ...انجیبرنگ یونی ورسٹی لاہور میں گزیٹڈ آفیسر باپ .... زندگی اچھی گزر رہی تھی ، امیدیں جوان ہو رہی تھیں - دو ہی بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی - دونوں بچے اب جوان ہو چلے تھے پڑھ لکھ رہے ، ماں باپ کی آنکھوں میں امید کے دیپ زیادہ ہی روشن تھے کہ منزل اب قریب تھی ....بیٹی کا امتحان تھا ، بھائی اسے لے کر کر جا رہا تھا ..لاہور سٹیشن سے ذرا آگے ریلوے پل ہے جسے گڑھی شاہو کا پل کہتے ہیں .... وہاں ڈور آئی اور نوجوان کا گلا کاٹ گئی ... موٹر سائکل گری تو پیچھے سے ٹرک چڑھا آ رہا تھا ...دونوں بچے کچلے گئے اور جان کی بازی ہار گئے .... عمر بھر کی کمائی برسوں میں ختم ہو گئی ..اور ہاں ایک اور بات بھی بتا دوں جو اخبار میں نہ آ سکی ... کیونکہ واقعہ پرانا ہو چلا تھا خبر آ کے گذر گئی تھی ....مجھے ایک واقف حال نے برسوں بعد بتایا کہ وہ باپ پاگل ہو گیا تھا ....
لیکن اس کے باوجود میں کہوں گا کہ بسنت منانا بہت ضروری ہے .. وہ اس لیے کہ :
ہمیں اپنی ثقافت بھی تو بچانی ہے جو ساری کی ساری اس موئی بسنت میں سمٹ آئی ہے ..اور بسنت کی رات کوٹھوں پر ہونے والے مجروں میں اس کا اظہار ہوتا ہے ..جب جام الٹائے جاتے ہیں شراب لنڈھائی جاتی ہے - جی ہاں یہی تو ہماری ثقافت ہے اگر کسی کو مجھ سے اختلاف ہے تو مجھے بتائے کیا یہ چار کام اب بسنت کا مستقل حصہ نہیں ...؟ -
کیا طوائفوں اور گرل فرینڈز کے بنا بسنت کا تصور ہے ؟
کیا شراب کے بغیر اسے ادھورا تصور نہیں کیا جاتا ؟
کیا کان پھاڑنے والے انڈین اور لچر پنجابی گانوں کے بغیر یہ پھیکی نہیں جانی جاتی ؟
کیا لاہور کے ہوٹل اس روز زنا کے اڈوں اور طوائف کے کوٹھوں میں نہیں بدل جاتے ؟-
...اور جو "عقل کے کورے " اور دانش کے "بزرجمہر " اس کے لیے تاریخ سے ڈھونڈھ ڈھونڈھ کے "دلائل " لاتے ہیں کہ اس کا ہندو ثقافت سے کوئی تعلق نہیں ..بھلے نہ ہو یہ ہندوں کا چھوڑ مسلمانوں کا ہی تہوار رہا ہو لیکن کیا اس قتل و غارت گری کو ثقافت کہا جا سکتا ہے ؟ ...
میں ان سے بھی ایک سوال پوچھتا ہوں جو مغرب کے زرخرید "دانش ور " ہیں کہ مغرب میں شخصی آزادی کا یہ تصور ہے کہ اگر کوئی اپنے بیڈ روم میں بھی اونچی آواز میں میوزک لگائے اور ہمسایہ بے آرام ہو تو وہ پولیس کو بلا سکتا ہے لیکن اس بسنت میں چھتوں پر اس قدر بلند آواز میں میوزک لگایا جاتا ہے ..کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ؟ -
ایک جھوٹ جو مسلسل بولا جاتا ہے کہ جب سے دھاتی ڈور آئی تب سے یہ ہلاکتیں شروع ہوئیں ... میرا سوال ہے کہ جو چھت سے گر گے مرتے ہیں ، جو پتنگ لوٹتے گاڑیوں کی زد میں آ کی جان ہارتے ہیں اور جو شراب کے نشے میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ کی اندھی گولیوں سے مارے جاتے ہیں وہ کیا ہووے ؟--
آپ تیس برس، چالیس برس پرانے اخبارات اٹھا کے دیکھ لیجئے - بسنت سے اگلے روز سے اخبارات ان خبروں سے بھرے ہووے ہوں گے .. اصل میں ہوا یوں کہ قتل و غارت گری حد سے بڑھ گئی ، دھاتی ڈور نے اس میں نمایاں اضافہ کر دیا تو "جرم " کو ثقافت کے چھپانا ممکن نہ رہا ..اور ظاہر ہے کثافت کب تک ثقافت کے پردے میں چھپائی جا سکتی ہے ؟-
اس کے حامیوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ اس معاشرے میں بے حیائی کیسے پھیلانی ہے ، اس کی اخلاقی اقدار کو کیسے تباہ کرنا ہے ؟ سو ان کی حمایت بھی اسی ایجنڈے کے پیش نظر ہے .......یہ طبقہ اتنا ظالم ہے کہ اپنی تفریح کے لیے دوسروں کے گلے کٹنے پر بھی ان کے دلائل یہ ہوتے ہیں ..ایک بسنتی وزیر کا بیان اخبارات میں چھپا تھا کہ
"اس سے کہیں زیادہ ہلاکتیں ، ڈکیتیوں ، ٹریفک حادثات اور خود کشیوں میں ہوتی ہیں ،جب ا س پر کوئی نہیں بولتا۔" (نوائے وقت)
یہ ہیں خیالات اور سطحی پن ہمارے ان "انسان دوست ثقافتیوں " کا ......
...ابوبکر قدوسی
Friday, 10 February 2017
بادشاہ اور گدھا
ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا۔ گدھا لے لو۔ گدھا لے لو۔
گدھا انتہائی کمزور اور لاغر قسم کا تھا.
۔
وہاں سے بادشاہ کا اپنے وزیر کے ساتھ گزر ہوا،
بادشاہ وزیر کے ساتھ گدھے کے پاس آیا اور پوچھا کتنے کا بیچ رہے ہو؟
اس نے کہا عالی جاہ! پچاس ہزار کا۔
بادشاہ حیران ہوتے ہوئے، اتنا مہنگا گدھا؟ ایسی کیا خاصیت ہے اس میں؟
وہ کہنے لگا *حضور جو اس پر بیٹھتا ہے اسے مکہ مدینہ دکھائی دینے لگتا ہے*۔
بادشاہ کو یقین نہ آیا اور کہنے لگا اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم ایک لاکھ کا خرید لیں گے لیکن اگر جھوٹ ہوئی تو تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا
ساتھ ہی وزیر کو کہا کے اس پر بیٹھو اور بتاؤ کیا دکھتا ہے؟
وزیر بیٹھنے لگا تو گدھے والے نے کہا، *جناب مکہ مدینہ کسی گنہگار انسان کو دکھائی نہیں دیتا*۔
وزیر: ہم گنہگار نہیں، ہٹو سامنے سے۔ اور بیٹھ گیا لیکن کچھ دکھائی نہ دیا۔
اب سوچنے لگا کے اگر سچ کہہ دیا تو بہت بدنامی ہوگی،
اچانک چلایا *سبحان اللہ، ما شاء اللہ، الحمدللہ کیا نظارہ ہے مکہ، مدینہ کا*۔
۔بادشاہ نے تجسس میں کہا ہٹو جلدی ہمیں بھی دیکھنے دو اور خود گدھے پر بیٹھ گیا، دکھائی تو اسے بھی کچھ نہ دیا لیکن سلطانی جمہور کی شان کو مدنظر رکھتے ہوئے آنکھوں میں آنسو لے آیا اور کہنے لگا
*واہ میرے مولا واہ، واہ سبحان تیری قدرت، کیا کراماتی گدھا ہے*
کیا مقدس جانور ہے، میرا وزیر مجھ جتنا نیک نہیں تھا اسے صرف مکہ مدینہ دکھائی دیا مجھے تو ساتھ ساتھ جنت بھی دکھائی دے رہی ہے۔
اس کے اترتے ہی عوام ٹوٹ پڑی کوئی گدھے کو چھونے کی کوشش کرنے لگا، کوئی چومنے کی، کوئی اس کے بال کاٹ کر تبرک کے طور پر رکهنے لگا وغیرہ وغیرہ.
*یہی حال کچھ ہمارے سماج میں مذہب کے سوداگروں کا ہے جنهوں نے دینی اصطلاحات اور دین کے نام پر فریب دینے کا بیڑا اٹھا رکها ہے اور سادہ لوح عوام بھی اندھے کانے بن کر پیچھے چل پڑتے ہیں.
اپنی عیاشیوں اور جھوٹی شان و شوکت کے لیئے بندہ کیسے کیسے جھوٹ بولتا ھے
زرا سوچیئے
سوچنا جرم نہیں....
سنگ و آہن کے بھی سینوں میں شرر جاگ اٹھے....!
ویلنٹائن ڈے نامی خرافات کے عنوان سے ایک نیا تہذیبی زہر قوم کو شوگر کوٹ کر کے پلانے کی تیاریاں ایک مرتبہ پھر عروج پر ہیں۔ ٹاک شوز کے جبرا چرے بکواس گو اپنا خبثِ باطن انڈیلنے کو پھن پھیلائے بلوں سے نکل کر ٹاک شوز سجانے کو ہیں۔ سو لازم تھا کہ اہلِ ایمان کے سامنے دردِ دل رکھا جائے اور اپنے تئیں بے حیائی کے اس سیلاب کے سامنے بند باندھنے کی اپنی سی کوشش اور پاکیزہ تہذیب کا حقیقی نہج اپنی نوجوان قوم کو بتلایا جائے
مصور پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے شرق و غرب کے علوم میں غوطے لگا کر جو، جواہر موتی ہمارے سامنے رکھے تھے۔ انہی میں جاوید نامہ میں ابدالی کی زبان سے اس ”ترقی“ کے جو پردے چاک کئے ہیں اس میں یہ بھی کہا: ”یورپ کے ذہنی غلاموں نے اپنے چھچھورے پن اور سطحیت پسندی کی وجہ سے بے حد قیمتی چیز یعنی زندگی کو لہو و لعب کے لئے وقف کر دیا اور یہ اس لئے ہوا کہ علم حاصل کرنا مشکل کام تھا جو وہ اپنی کم ہمتی اور سہل پسندی کی وجہ سے اختیار نہ کر سکے (ترجمہ فارسی اشعار)
یہی زمانہ حاضر کی کائنات ہے کیا
دماغ روشن و دل تیرہ و نگاہ بے باک
باپ کے نام سے ناواقف مجہول النسب محکومی و تقلید سے چندھیائی ہوئی ہوس پرست نگاہیں نوجوان نسل کو ٰآوارگی کی راہوں پر دھکیل کر۔۔۔۔۔ نجانے بجلی گیس بے روز گاری کی ماری قوم کی مزید بربادی پر کیونکہ کمر بستہ ہیں۔ امریکی ڈالروں کے عطا کردہ ایجنڈے تعلیمی اداروں، این جی اوز کے ذریعے سب سے زیادہ ثقافت کے نام پر رنگ لا رہے ہیں۔ ملک اور نوجوان نسل کو بچانے کیلئے سنجیدہ اور فہیم طبقے کو بھرپور کوشش کرنی ہو گی کہ اخلاق باختگی اور فکری انارکی کے اس طوفان سے قوم کے قیمتی ترین اثاثے( نوجوان نسل) کو بچایا جا سکے۔
کچھ عاقبت نا اندیشوں کی جانب سے اسلام کے تمام بنیادی عقائد پر نظرِ ثانی کی مہم میں اب حیا کا جنازہ نکالنا بھی واجب ٹھہرا ہے۔ ڈینگی، ایبولا اور اب زیکا وائرس کے بعد تہذیبی یلغار کا وائرس اب بلٹ ٹرین کی سپیڈ سے ارضِ وطن کے گلی کوچوں میں پھیلایا جا رہا ہے۔ یہ وائرس رگوں میں سرایت کر کے امت مسلمہ کی نوجوان نسل کو فکری انتشار، مکمل کنفیوشن، ہوش گم حواس گم کیفیت میں مبتلاء کیے ہوۓ ہے۔ ہر لچر لفنگی چیز کو کلچر کا نام لے کر مسلط کر دو۔۔۔۔۔! گلوبل "جنگل" اور مشترکہ کلچر کے دعوے داروں نے کبھی ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے تہوار عیدین مناتے ہوۓ کسی نان مسلم کو یوں دیکھا ہو تو بتئیے گا۔ کبھی کسی نے عید الضحی کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں بکرے بندھے دیکھے ہوں تو مطلع فرمائیے گا
بے حیائی سے مزین لنڈا بازار سے امپورٹد ویلنٹائنی وائرس اپنا زہر اچھا خاصا پھیلا چکا ہے۔ یہ وائرس لال لباس، لال گلاب لیے تھرکتا، مٹکتا بہکاتا ویلنٹائنی کی قلب و روح کا Murder کرتا ہے، پھر "کہتے ہیں جسکو عشق خلل ہے دماغ کا" کے مصداق دماغ کی چولٰیں ہلا ڈالتا ہے۔ اب سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری بندہ پہلے ویلنٹائنی اور پھر سب کچھ ہوتا ہے۔ غضب خدا کا کہ اسلام کو تو مکمل یتیم کرنے کی کوششیں ہوں، ہر نیکی جرم ٹھہرائی جانے لگے، تبلیغی جماعت جیسی بے ضرر جماعت پر شریف ویلنٹائنی پابندیاں عائد کریں، مگر سکولوں کے مخلوط ماحول میں معصوم بچوں کو عشق عاشقی کے اسباق پڑھاۓ جائیں۔ نا دیدہ ہاتھ اس عظیم الشان مملکت سے عالی شان دین، اقدار و اطوار چھیننے کے درپے ہوں اور دینی حلقے خس و خاشاک بنے رہ جائیں۔ مغرب کا اخلاقی تعفن تو اس قدر ہے کہ سات سمندر پار کی خبریں سن کر ایک سلیم الفطرت انسان کی روح سڑ جاۓ۔ دیوانگی کی سطحوں کو چھوتی ہوئی تہزیب جسے خوبصورت ناموں میں ملفوف کر کے ہمارے بچوں کو اغواۓ شیطانی میں دیا جا رہا ہے اور ہم خاموشی سے اسٹیٹس اپلوڈ کر کے فرض پورا کرنے کے چکروں میں لگے ہوۓ ہیں۔ اگرچہ یہ بھی ضروری ہے مگر اسی پر اکتفا کر بیٹھنا کہاں کی ہوشمندی ہے۔
یہ تہذیبوں کی جنگ اسفل السافلین ڈارونیوں اور اشرف المخلوقت آدمیوں کے درمیان ہے، اور ہم میں سے ہر ذی شعور فرد کو اپنا فرض اخلاقی و ایمانی بنیادوں پر ادا کر کے اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت دینا ہو گا۔ غرق ہوتے فرعون کے لشکر کا اس لئے ساتھ غرق ہونا مقدر ہو چکا۔ ہمیں اپنی نسلوں کو اسکے ساتھ غرقاب ہونے سے بچانا ہے۔ رقص و سرود، چنگ و رباب ، ہوس پرستی، بے راہ روی مغربی تہذیب کے اسباب زوال میں سے ایک بہت بڑا سبب ہے۔ لنڈے کے اس ایڈز زدہ مال سے اپنے گھروں، خاندانوں، معاشرت تعلیمی اداروں سب ہی کو بچانا ہے اور اپنی پاکیزہ کوثر و تسنیم سے دھلی قرآنی تہذیب کی طرف لوٹنا ہے۔
آج بھی اس امت کو جس کیلئے… ’عقل و دل و نگاہ کا مرشدِ اولین ہے عشق‘ کا سبق اتارا گیا تھا کی اشد ضرورت ہے ، ذرا (ویلنٹائن ڈے کے پسِ منظر میں) عشقِ حقیقی کی جولانیاں اور سفلی عشق کی پستی پر نگاہ تو دوڑایئے۔ کہاں معیار یہ کہ ’والذین امنوا اشد حباً للہ‘‘ ایمان والے اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں۔ غلامی محمد ﷺ کی حقیقت یاد دلانے کو بار بار اس آیت کی تکرار کہ (اے نبیؐ) کہو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کریگا، (اٰل عمران 31) اور پوری تاریخ میں موجود عشق کی حسین داستانیں سمیٹ کر اشعار میں پرو کر رول ماڈل دے ڈالنے والا اقبالؒ …؎
صدقِ خلیلؑ بھی ہے عشق صبرِحسینؓ بھی ہے عشق
معرکۂ وجود میں بدر و حنین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھی ہے عشق ۔
گناہوں کے اقرار، پھر ندامت اور توبة النصوح ہی سے عنداللہ درگزر اور معافی تلافی کے دروازے کھلتے ہیں۔ تکبر کی دنیا سے نکل کر دیکھئے اللہ کے آگے جھکنے والوں نے کیسی تواریخ رقم کیں۔ ۔بس عشق کی ایک جست چاہئے لیکن یومِ اوباشی،فحاشی والا عشق نہیں بلکہ …؎
قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمدؐ سے اجالا کردے
بس اس حقیقی عشق کی ایک جست درکار ہے...!
اہلِ ایمان یاد رکھیں یہ میراث، یہ گلستانِ محمد ﷺ کے مہکتے پھولوں اور آسمانِ حیا کے درخشندہ ستاروں کی مبارک زندگیاں، اور ان زندگیوں کو اپنا نقشِ حیات بنانے والے مبارک سلف صالحین کی محنت اور فکر سے یہ اجلی تہذیب کی میراث،،،، جس کا ایک ایک گوشہ زندہ و جاوید ہم تک بحفاظت پہنچا ہے۔۔۔ اس ایک ایک گوشے کو عمل کے سانچے میں ڈھالنا، اپنی ذات سے پورے معاشرے تک تبدیلی کی کوشش کا بارِ گراں اٹھانا ہمارے ذمے ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ہم تھوڑے ہیں یا زیادہ بہرطور مقابلہ ہمیں ہی کرنا ہے۔۔۔۔!!
خدارا جاگیے۔۔۔۔۔!
سنگ و آہن کے بھی سینوں میں شرر جاگ اٹھے
چشمِ انساں ہے کہ محروم بصیرت ہے ابھی۔۔۔۔۔۔۔!
.........................
تحریر : منیب اعوان
Mayday
پائلٹ نے جہاز تباہ ہونے سے پہلے کنٹرول سٹیشن کو Mayday مے ڈے کی کال بھیجی۔۔۔
دنیا میں جب بھی جہاز میں کوئی سنجیدہ مسئلہ ہوتا ہے تو پائلٹ Mayday mayday mayday پکارتا ہے۔۔۔
یہ فرنچ زبان کے لفظ m'aidez سے اخذ کردہ لفظ ہے جس کا مطلب ہے میری مدد کرو Help Me۔۔۔
جب یہ کال کنٹرول سٹیشن پر موصول ہوتی ہے تو فوری طور پر اس جہاز کے معاملے کو فوقیت دی جاتی ہے کہ ایمرجنسی ہے۔۔۔
یہ تو مے ڈے یا Mayday کا تعارف ہوگیا لیکن اس تحریرکا اصل منشا کچھ اور ہے۔۔۔
پائلٹ مکمل پیشہ ورانہ تربیت کے بعد پائلٹ کے منصب پر فائز ہوتا ہے اور اس طرح کے ہنگامی اقدامات بھی اسے تربیت میں سکھائے جاتے ہیں۔۔۔
اب ایک لمحے کو سوچیے کہ آپ پائلٹ ہیں، جہاز بہت بلندی پر ہے اور اس میں سنجیدہ نوعیت کی خرابی پیدا ہوچکی ہے۔۔۔
آپ بطور پائلٹ یہ جانتے ہیں کہ جہاز تباہ یوجائے گا۔۔۔
ان مختصر لمحات میں بھی آپ Mayday کی کال بھیجیں گے اور ہر ممکنہ کوشش کریں گے کہ جہاز آبادی کے اوپر نہ گرے۔۔۔
پوری دنیا میں یہی طرز رائج ہے اور یقیناً پائلٹ کے مضبوط اعصاب کی نشانی ہے۔۔۔
اعصاب کی یہ مضبوطی اسے اس شعبے کا انتخاب اور پھر اس تربیت میں سے گزرنا عطا کرتا ہے۔۔۔
وہ ذہنی طور پر تیار ہوتا ہے کہ اس کی پیشہ ورانہ زندگی میں یہ حادثۃ کبھی بھی پیش آسکتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اس کو وسیع تناظر پر اپنے اوپر لاگو کیجیے۔۔۔
یہ دنیا کی زندگی مختصر ہے اور اس میں کسی بھی لمحے ہماری موت کا بلاوا آسکتا ہے۔۔۔
اگرہم ذہنی طور پر تیار ہیں اور زندگی میں وہ طرز اختیار کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مقرر کیا ہے تو یقیناً ہمارے اعصاب بھی اس نازک لمحے میں جمے رہیں گے اور قائم رہٰیں گے۔۔۔
اور ہم آسانی سے اللہ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی گواہی دے کر ان الفاظ کی فضیلت حاصل کرسکیں گے۔۔۔
مسلمان تو ہم پیدائشی ہیں، نبی کریم ﷺ کا طرزِ زندگی ہم نے ہمت اور محنت سے اپنانا ہے اور پھر اللہ کے فضل ورحمت سے ہمیں یہ الفاظ بھی ملیں گے، موت ہمارے لیے تحٖفہ بھی ہوگی، منکر نکیر کے جواب بھی بآسانی دیں گے۔۔۔
بس نبی کریم ﷺ کے طرزِ زندگی پر ڈٹ جائیے، معذرت کے ساتھ نہیں بلکہ خدا اعتمادی کے ساتھ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفاق احمد
دختر) میری بیٹی)
میں اپنی ایک رشتہ دار خاتون کو کیسے بھول سکتا ہوں جو پیدا تو اللہ کی مرضی سے ہوئی مگر مری ماں باپ کی پسند سے. کراچی میں پلی بڑھی اور جامعہ کراچی سے ماسٹر کرنے کے بعد ماں باپ نے روایت کے مطابق اس کی رشتے کی بات گاؤں میں ایک رشتہ دار سے کی جو گاؤں میں لکڑیاں بیچتا تھا. خاتون بھی اپنے باپ کی عزت کی خاطر راضی ہوگئی اور گاؤں چلی گئی. ایک دن اپنے ہونیوالے شوہر سے پڑھنے واسطے کچھ کتب منگوا بیٹھی تو اس کے منگتیر نے اسے پانچویں جماعت کی کتابیں پکڑا دیں.
اگلی صبح اپنے باپ کا ریووالور کنپٹی پر رکھ کر ماں سے کہا کہ اس نے یہ شادی نہیں کرنی. ماں نے مذاق سمجھ کر اسے جواب دیا اس سے اچھا ہے خود کو گولی ماردو......... اور اس نے حقیقتاً مار کر بھی اور مر کر بھی دیکھا دیا.
میں نیا نیا جوان تھا غالباً 1995 کی بات ہے. میرے رشتہ داروں میں دشمنی تھی. دس بارہ بندے مرنے کے بعد دونوں فریقین کواحساس ہوا کہ باپ دادا کی دشمنی جو ایک بیر کی درخت پر شروع ہوئی تھی اب بند ہونی چاہیئے. صلح صفائی ہوئی، جرگے بلائے گئے، سفید شلوار قمیض واسکٹ اور لمبے شملوں والے باریش معززین نے کلام پاک پر ہاتھ رکھ کر صلح کی۔ اس خوشی میں ہوائی فائرنگ ہوئی اور بیل ذبح کئے گئے؛ اور دو بچیوں کو اس دشمنی کی بھینٹ چڑھایا گیا.
ایک بچی کی عمر سات سال تھی۔ جب اس کو پتہ چلا کہ اس کا رشتہ اس سے تین گنا بڑے عمر کے بندے کو دیدیا گیا ہے تو وہ بچی آگے بڑھ کر اپنے ہونے والے شوہر سے کہنے لگی "ماما جی مجھے ٹافیاں دلاو گے نا؟ دوسری جو سترہ سال کی تھی اس نے بغاوت کی اور پورا گاؤں کہنے لگا کہ اس لڑکی کا کسی سے چکر چل رہا ہوگا ورنہ کون جرگے کے خلاف جا سکتا ہے۔ پھر اچانک سانپ کے کاٹے سے وہ مر گئی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اسکی سگی ماں نے اسے اپنے ہاتھوں سے زہر دے دیا کہ اس نے ہماری ناک کاٹ دی ہے.
اس دن اپنی ماں کے گود میں سر رکھ کر میں بہت رویا تھا اور میری رشتہ دار خواتین مجھے زنخا کہہ کر ہنس پڑتیں. شاید تب ہی سے گاؤں کو طلاق دے کر اج تک خود سے فرار حاصل کررہا ہوں.
امریکہ میں مقیم ایک انویسٹیگٹیو جرنلسٹ دوست نے مجھے وٹس ایپ پر ایک لنک بھیجا۔ لنک اوپن کرکے دیکھا تو پتہ چلا کہ کسی پاکستانی فلم "دختر" کا ٹریلر تھا. وقت گزاری کیلئے لنک اوپن کیا تو جیسے کسی نے مجھے جکڑ لیا. مجھے اپنے چہرے پر جیسے تھپڑ لگتے محسوس ہوے۔ مجھے ایسا لگا جیسے میرے کچھ مضامین میرے "خٹک نامہ" کے مسودے سے چرائے گئے ہیں۔ مگر جب فلم کی ریلیز کی تاریخ دیکھی تو ایسا لگا جیسے میں نے اس فلم کا سکرپٹ چرایا ہوا ہے. عافیہ نھتیانی، جو اس فلم کی ڈائریکٹر اور مصنفہ ہے، نے ہماری قبائلی پشتون روایات کو وہ تھپڑ مارے ہیں کہ اس فلم کو یا تو پشتون روایت پسندوں نے دیکھا نہیں ہے یا اگر دیکھا ہے تو میری طرح شرمندگی سے منہ چھپا کر خود سے پردہ کئے بیٹھے ہیں.
فلم دختر ایک دس سالہ بچی اور اسکی ماں کی کہانی کے گرد گھومتی ہے. بچی کا باپ نسلوں پرانی دشمنی سے اکتایا ہوا اپنی دس سالہ بیٹی کا نکاح ایک ساٹھ سالہ قبائلی سردار کے ساتھ کرانے پر راضی ہوجاتا ہے. بچی کی ماں اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے اور بیٹی سمیت گھر سے فرار ہوجاتی ہے. ایک پنجابی ٹرک ڈرائیور ان ماں بیٹی کیلئے ڈھال بن جاتا ہے.
میں عافیہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ اس سے کہنا چاہتا ہوں کہ میری بہن تم کیسے اتنی بہادر ہو کہ پشتونوں کے لمبے اور اونچے شملے کے پیچھے چھپی فرسودہ روایات پر ایک عورت ہوکر وار کیا اور میں مرد ہو کر بھی اج تک خود سے چھپتا پھر رہا ہوں.
لوگ کہتے ہیں وقت بدلا ہے۔مگر وقت شاید اب بھی نہیں بدلا۔ آج بھی مردان اور سوات کی نوخیز بچیاں خریدی جارہی ہیں اور دبئی کے مہنگے کلبوں میں میرے "پشتون ولی" کے دستاروں کے تاروں کو تار تار کررہی ہیں. ..............
کیا واقعی میرے اندر غیرت آ گئی ہے یا مجھے ایک جذباتی دورہ پڑ گیا ہے۔ کیوں مجھے اپنی وہ سب بیٹیاں، مائیں اور بہنیں یاد آ رہی ہیں جنکو میں فرسودہ روایات کے نام پر بلی چڑھتے ہوے دیکھتا رھا۔ ارے آپ گھبرائیے نہیں، انشاءاللہ پانچ منٹ میں ٹھیک ہو کر آپ کو پھر سے کوئی شلوار کہانی سناتا ہوں، پھر ہنساتا ہوں. کچھ دیر بس رو لوں، شاید کچھ کو رلا لوں۔ کچھ دیر رلانے کیلئے معافی مانگتا ہوں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)





